رمیز راجہ کے والد کمشنر تھے اسی لیے ان کی ٹیم میں سلیکشن ہوئی وسیم اکرم کا اپنی کتاب میں دعویٰ

“رمیز راجہ کے والد کمشنر تھے اسی لیے ان کی ٹیم میں سلیکشن ہوئی” وسیم اکرم کا … لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے اپنی خودنوشت میں رمیز راجہ کو ’پرچی‘ پر ٹیم میں آنے کا مورد الزام ٹھہرا دیا۔ نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق وسیم اکرم اپنی کتاب ’سلطان۔ ایک یادداشت‘ (Sultan: A memoir)میں لکھتے ہیں کہ رمیز راجہ کی ٹیم میں سلیکشن پرچی کا کارنامہ تھا کیونکہ ان کے والد کمشنر تھے۔ وسیم اکرم نے دعویٰ کیا ہے کہ رمیز راجہ کو ان کے والد کے عہدے کی وجہ سے کرکٹ سرکٹ میں بے جا فوائد ملتے رہے۔ انہیں فیلڈنگ کے وقت سلپ میںبھی محض اس لیے کھڑا کیا جاتا تھا کہ اس کا تعلق اشرافیہ سے تھا۔ اس کا باپ بڑے عہدے پر تھا اور اس نے ایک بڑے کالج ایچیسن سے تعلیم پائی تھی۔ حالانکہ وہ سلپ میں انتہائی ناقص فیلڈنگ کرتے تھے۔انہوں نے سلپ میں جتنے کیچ پکڑے اس سے زیادہ چھوڑے۔ وسیم اکرم نے رمیز راجہ پر اس قدر تنقید کے باوجود ان کی بیٹنگ کی صلاحیت کو تسلیم کیا۔ وسیم اکرم کی یہ کتاب جلد شائع ہونے جا رہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ رمیز راجہ کے کرکٹ کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب انہوں نے 1992ءکے ورلڈ کپ میں آخری کیچ کرکے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا۔ مزید : کھیل –
Source : https://dailypakistan.com.pk/05-Dec-2022/1516823

اپنا تبصرہ بھیجیں