جنرل باجوہ نے عثمان بزدار کی کرپشن کی تفصیلات عمران خان کو پیش کیں تو آگے سے کیا جواب ملا؟

جنرل باجوہ نے عثمان بزدار کی کرپشن کی تفصیلات عمران خان کو پیش کیں تو آگے سے … اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی منصور علی خان نے ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ جب سابق آرمی چیف جنرل باوجوہ نے عمران خان کو عثمان بزدار کی کرپشن کے بارے میں بتایا اور تفصیلات شیئر کیں تو عمر ان خان نے کہا کہ یہی ہے یا اور بھی کچھ ہے ، جنرل باجوہ نے کہا کہ وزیراعظم سر آپ کیلئے اتنا ہی کافی ہے آگے دکھایا تو آپ کو شرمندگی ہو گی ۔ یوٹیوب پر شیئر کیئے گئے وی لاگ میں صحافی منصور علی خان کا کہناتھا کہ ”عثمان بزدار کے حوالے سے اہم انفارمیشن یہ ہے کہ جنرل باجوہ عمران خان کو کہتے تھے کہ جس طرح کی اس شخص کی کارکردگی ہے یہ آپ کی 22سال کی محنت پنجاب میں تباہ کر دے گا، انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو کہتاتھا کہ یہ صرف نااہل نہیں بلکہ کرپٹ بھی ہے ، عمران خان نے کہا کہ ثبوت لا کر دکھائیں ، میں نے جا کر عمران خان کو ان کی مبینہ کرپشن کی فائل دکھائی اور جب عمران خان نے دیکھنا شروع کیا تو کہنے لگے کہ یہی ہے یا اور بھی کچھ ہے ، میں نے کہا کہ وزیراعظم سر بس اتنا ہی کافی ہے آگے دکھایا تو آپ کو شرمندگی ہو گی ۔منصور علی خان نے کہا کہ اس موقع پر جنرل باجوہ کی عمران خان کے ساتھ شہزاد اکبر کے حوالے سے بھی بڑی اہم گفتگو ہوئی، کیونکہ وہ شہزاد اکبر کی ذاتی نوعیت کا ایشو ہے، جس کے بارے میں عمران خان کو آگاہ کیا گیا ۔ سینئر صحافی کے مطابق عمران خان کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ احتساب کے خلاف ہیں، یہ کہتے تھے کہ اسٹبلشمنٹ کیلئے احتساب کچھ نہیں ہے ، کرپشن ان کیلئے وقعت ہی نہیں رکھتی ،،، اس پر جب جنرل باجوہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے موقف دیا کہ ان کو اس بات پر اعتراض تھا کہ آپ یہ احتساب کا معاملہ اپنی اپوزیشن کے رہنماﺅں کو دبانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں اور جب آپ کو عثمان بزدار کی مبینہ کرپشن کی تفصیلات دی گئیں تو اس پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا ، یہ اعتراض اٹھایا جاتا تھا، یہ کہا جاتھا کہ اپنی پارٹی میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بھی ایکشن لیں ۔ منصور علی خان کا کہناتھا کہ پرنسپل سیکریٹر ی اعظم خان کی تعیناتی پر میں نے اپنے ذرائع سے کہا کہ وہ باجوہ صاحب سے پوچھیں کہ انہیں کیوں لگایا گیا ان کی وجہ سے جہانگیر ترین کی لڑائی ہوئی اور بھی پارٹی میں لوگ ناراض ہوئے۔ صحافی کا کہناتھا کہ اس سوال کے جواب میں مجھے بتایا گیا کہ اعظم خان دراصل عمران خان کی اپنی چوائس تھے، وہ سینارٹی کی لحاظ سے 137 ویں نمبر پر تھے لیکن اس کے باوجود بھی انہیں اتنی سینئر پوزیشن دی گئی ،اس کی وجہ یہ تھی کہ پرویز خٹک جب وزیراعلیٰ تھے تو وہ عمران خان کی نہیں سنتے تھے ، اس وقت اعظم خان چیف سیکرٹری تھے تو عمران خان اپنے سارا کچھ اعظم خان کے ذریعے کروا لیا کرتے تھے ، پرویز خٹک کو دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ نہ بنانے کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ عمران خان کی بات نہیں سنتے تھے ۔ منصور علی خان کے مطابق جنرل باجوہ کی یہ سوچ ہے کہ عمران خان ایسے وزیراعلیٰ بنانا چاہتے تھے جو جی سر کہیں، آگے سے کوئی بحث نہ کریں اور جو کہہ دیا جائے وہ کر دیں ، و ہ دونوں صوبوں پنجاب اور کے پی کے کو اسلام آباد میں بیٹھ کر چلانا چاہتے تھے جس کی وجہ سے مسائل ہو رہے تھے ۔ مزید : قومی –
Source : https://dailypakistan.com.pk/08-Dec-2022/1518083

اپنا تبصرہ بھیجیں