ایران میں حجاب مخالف مظاہروں میں 300 سے زائد افراد ہلاک سرکاری اعداد و شمار سامنے آگئے

ایران میں حجاب مخالف مظاہروں میں 300 سے زائد افراد ہلاک، سرکاری اعداد و شمار … تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن)  سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک جنرل نے  بتایا ہے  کہ 16 ستمبر کو مہسا امینی کی اخلاقی پولیس حراست میں موت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک ایران میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاسداران انقلاب  کے ایرو سپیس ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل امیرعلی حاجی زادہ نے مہر خبررساں ایجنسی کی طرف سے شائع کردہ ایک ویڈیو میں کہا ‘اس خاتون کی موت سے ملک میں ہر کوئی متاثر ہوا ہے، میرے پاس تازہ ترین اعداد و شمار نہیں ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس واقعے کے بعد سے اب تک  اس ملک میں 300 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں’۔ ان ہلاکتوں میں درجنوں پولیس، فوجی اور ملیشیا کے کارکن بھی  شامل ہیں جو مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے یا قتل کردیے  گئے۔ تازہ ترین سرکاری تعداد اوسلو میں قائم گروپ ایران ہیومن رائٹس کے  شائع کردہ ‘ایران میں مظاہروں کو دبانے میں ہلاک ہونے والے’ کم از کم 416 کے اعداد و شمار کے بہت قریب ہے۔گروپ کا کہنا ہے کہ اس کی تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امینی مظاہروں سے متعلق تشدد اور جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں ہونے والی  بدامنی میں مارے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ 16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ہلاک ہوگئی تھیں۔ انہیں اخلاقی پولیس نے حجاب ٹھیک سے نہ پہننے پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں ملک گیر حجاب مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ مزید : بین الاقوامی –
Source : https://dailypakistan.com.pk/29-Nov-2022/1514559

اپنا تبصرہ بھیجیں