دلہن کی انتہائی معصومانہ خواہش جسے پورا کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑگیا

دلہن کی انتہائی معصومانہ خواہش جسے پورا کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑگیا نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) نام نہاد جمہوری ملک بھارت میں اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوﺅں کی سماجی حالت کچھ ایسی ہے کہ اونچی ذات کے ہندوﺅں کے خوف سے دھوم دھام کے ساتھ اپنی شادی بھی نہیں کر سکتے۔ گزشتہ دنوں ایک دلت (ہندو مذہب کی نچلی ذات) لڑکے لڑکی کی شادی میں دلہن نے خواہش کر دی کہ اس کی بارات خوب باجے واجے کے ساتھ آئے۔ اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے پولیس کی اتنی بھاری نفری تعینات کرنی پڑ گئی کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ شادی ریاست اترپردیش کے شہر بریلی میں ہو رہی تھی، جس میں 21سالہ دلہن روینہ نے اپنے دولہا رام کرشن سے کہا کہ وہ بارات خوب دھوم دھام سے لے کر آئے۔ تاہم مشکل یہ تھی کہ علاقے میں اونچی ذات کے ہندوﺅں نے نچلی ذات کے لوگوں پر بے شمار پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں ایک یہ پابندی بھی شامل ہے کہ نچلی ذات کے لوگ شادی یا کوئی بھی خوشی کھلے عام نہیں منائیں گے۔ رام کرشن نے اپنی دلہن کی خواہش پوری کرنے کے لیے بینڈ باجے کا انتظام کر لیا اور علاقے میں ان کی حفاظت کے لیے روینہ کے والد نے پولیس کو درخواست دے دی۔ اس کی درخواست پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے ایک انسپکٹر، 14سب انسپکٹر اور 40کانسٹیبلز اس بارات کی سکیورٹی پر تعینات کر دیئے۔رپورٹ کے مطابق پولیس کی طرف سے دولہا دلہن کو 11ہزار روپے کا شگن بھی دیا گیا۔  مزید : ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی –
Source : https://dailypakistan.com.pk/28-Nov-2022/1514129

اپنا تبصرہ بھیجیں