عمران خان جنرل باجوہ کو بوس کہتے تھے یہ الفاظ استعمال کرنے سے کس نے منع کیا؟ دلچسپ انکشاف

عمران خان جنرل باجوہ کو بوس کہتے تھے، یہ الفاظ استعمال کرنے سے کس نے منع کیا؟ … اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن منصور علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے انتہائی قریبی ذرائع سے بات ہوئی ہے جنہوں نے ان کا موقف پیش کیا ہے۔ اپنے ایک وی لاگ میں منصور علی خان نے کہا کہ جو باتیں وہ بتانے جا رہے ہیں انہیں جنرل باجوہ کا خود کا موقف سمجھا جائے۔ منصور علی خان کے مطابق عمران خان ابتدائی دنوں میں جنرل باجوہ کو “بوس”  کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنرل باجوہ نے ان  سے کہا کہ یہ اچھا نہیں لگتا، تکنیکی طور پر آپ میرے باس ہیں اور اگر کوئی سنے گا تو اچھا نہیں لگے گا، اس پر عمران خان نے کہا کہ ہم پارٹنرز ہیں تو اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ آپ وزیر اعظم ہیں اور میرے باس ہیں اس لیے میرے لیے یہ لفظ استعمال نہ کیا کریں۔ آرمی چیف بننے کے بعد نواز شریف سے تعلقات خراب ہونے کی وجہ کیا تھی؟ اس سوال پر جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع نے کہا کہ  بطور ادارہ ذہن میں یہ بات آگئی تھی کہ عمران خان اس ملک کا واحد لیڈر ہے جو ملک کو بچائے گا اور یہی ہے جس سے امید لگائی جاسکتی ہے، نواز شریف کے معاملے کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا اس میں ہماری کوئی مداخلت نہیں تھی، نواز شریف کے ساتھ  جنرل باجوہ کا احترام کا رشتہ رہا، شاہد خاقان عباسی کے ساتھ بہت اچھا تعلق رہا، جنرل باجوہ  خانہ کعبہ میں جا کر قسم کھانے کو تیار ہیں کہ ان کی نواز شریف سے آخری بار براہ راست گفتگو آج سے چار سال پہلے اس وقت ہوئی تھی جب کلثوم نواز کا انتقال ہوا تھا، اس کے علاوہ چار سال میں کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا۔ یہ غلط تاثر بن گیا  تھا کہ عمران خان کے پاس ٹیم تیار ہے اور یہ آتے ہی چٹکی بجائیں گے اور مسائل حل ہوجائیں گے لیکن یہ تاثر آہستہ آہستہ زائل ہوا۔ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے عمران خان کے بارے میں بہت اچھے جذبات تھے اور ادارے میں بھی ان کے بارے میں مثبت سوچ پائی جاتی تھی۔ ادارہ عمران خان کے سحر سے کب نکلا؟ اس پر جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع نے کہا کہ  عمران خان کی عادت بن گئی تھی کہ سارے کام ادارے سے کرواتے تھے، جس کی وجہ سے سارا نزلہ ادارے پر گر رہا تھا، ایک کور کمانڈرز کانفرنس میں 26 میں سے 20 کی یہ رائے تھی کہ ان سے دوری اختیار کی جائے، اس کے بعد ادارے نے ان سے دوری بنانے کا فیصلہ کیا، وقت گزرنے کے ساتھ باقی چھ بھی اس بات پر متفق ہوگئے کہ ہمیں عمران خان کی پشت پناہی سے ہٹنا پڑے گا۔ عثمان بزدار کے حوالے سے جب پہلی بار جنرل باجوہ کو پتا لگا تو ان کا ردِ عمل بھی یہی تھا کہ یہ کون ہے ، پی ٹی آئی کی  سینئر لیڈر شپ جنرل باجوہ کے پاس جایا کرتی تھی کہ آپ عمران خان کو کہیں کہ عثمان بزدار کو ہٹائیں ورنہ یہ ہماری پارٹی کا بیڑہ غرق کردے گا، یہ لوگ جنرل باجوہ سے یہ بھی کہتے تھے کہ ان کا نام نہ لیا جائے۔مارچ میں جنرل باجوہ نے واضح کردیا تھا کہ اب ہم مزید آپ کی سپورٹ نہیں کریں گے، اس پر عمران خان نے تین شرائط رکھیں۔ پہلی یہ کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر سپورٹ کی جائے۔ دوسرا بجٹ پاس کرواکے دیا جائے، تیسرا آئی ایم ایف اور فیٹف کے معاملات پر بھی آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے، ان تینوں چیزوں پر جس حد تک ہوسکا ان کی مدد کی گئی۔ منصور علی خان کے مطابق  ڈی جی آئی ایس کی تعیناتی کے معاملے پر  مئی کے اندر جنرل باجوہ نے بتادیا تھا کہ اگر آپ جنرل فیض کو آرمی چیف بنانا چاہتے ہیں تو انہیں ایک سال کیلئے کور کی کمانڈ کرنی پڑے گی، انہوں نے کہا کہ اگلے مہینے کرتے ہیں،  اس سے اگلے مہینے پھر انہوں نے کہا کہ اگلے مہینے کریں گے،  جنرل فیض نے بھی جنرل باجوہ سے کہا آپ وزیر اعظم سے کہیں کہ برائے مہربانی میری پوسٹنگ خراب نہ کریں اور مجھے کور کی کمانڈ دیں، انہوں نے جا کر وزیر اعظم کو اطلاع دی ، اس کے بعد انہیں وزیر اعظم ہاؤس سے کال آئی اور تائید کی گئی جس کے بعد ہم نے اعلان کردیا کہ جنرل فیض کور کمانڈر پشاور اور جنرل ندیم انجم آئی ایس آئی کے سربراہ ہوں گے لیکن اگلے دن پی ٹی آئی رہنماؤں کو بیانات آنا شروع ہوگئے۔ یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ جنرل باجوہ نے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو فون کرکے کہا کہ بطور آرمی چیف آج میرا آخری دن ہے اور میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔ اعظم خان نے جنرل باجوہ کو روکا اور کہا کہ آپ نے استعفیٰ دیا تو ہم سب پھنس جائیں گے،  اس کے بعد جنرل فیض سمیت کئی کور کمانڈرز جنرل باجوہ کے گھر گئے اور انہیں کہا کہ آپ استعفیٰ نہ دیں، اس کے بعد فیصلہ واپس لیا گیا۔ ایکسٹینشن کے معاملے پر سابق آرمی چیف کے قریبی ذرائع نے کہا کہ جنرل باجوہ کو تو ایکسٹینشن کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا، انہیں میڈیا کے ذریعے پتا چلا، جنرل باجوہ نے اس پر کہا بھی کہ انہوں نے تو ریٹائرمنٹ کا ذہن بنایا ہوا تھا۔ تاحیات ایکسٹینشن کے معاملے پر جنرل باجوہ کے ذرائع نے کہا کہ اسد عمر نے کال کرکے کہا تھا کہ آپ دو سال کیلئے توسیع لے لیں، جنرل باجوہ نے منع کردیا اور کہا کہ وہ اپنے وقت پر ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔ اس سے چار سے پانچ دن کے بعد پرویز خٹک نے کال کی تو جنرل باجوہ نے کہا کہ آپ ڈی جی آئی ایس آئی کے دفتر جا کر سیکیور لائن سے کال کریں، پرویز خٹک نے وہاں سے کال کی، اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ بطور آرمی چیف اپنی خدمات جاری رکھیں، یہاں الفاظ کا استعمال ایسا تھا جس سے یہ تاثر گیا کہ تاحیات توسیع کی بات کی گئی ہے لیکن انہوں نے بھی دو سال کی ہی بات کی تھی لیکن اس بار بھی جنرل باجوہ نے منع کردیا۔ منصور علی خان کے مطابق عالمی معاملات میں جنرل باجوہ کا کردار انتہائی اہم رہا۔ ریکوڈک کے معاملے پر جنرل باجوہ نے بڑا کردار ادا کیا، عمران خان کے دور میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ خراب ہوئے، خاص طور پر ان کے ترکی میں دیے گئے بیانات کی وجہ سے بہت نقصان ہوا۔ چین کے صدر نے عمران خان کے بارے میں جو کمنٹس دیے وہ شیئر نہیں کیے جاسکتے۔ عمران خان کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ جب آپ کسی دوسرے ملک کے لیڈر سے ملاقات کرتے ہیں تو یہ آپ کی ذاتی ملاقات نہیں ہوتی بلکہ آپ ریاستِ پاکستان کے نمائندے ہوتے ہیں لیکن ان ملاقاتوں میں اس چیز کی کمی محسوس کی جاتی تھی، عمران خان اسے ذاتی تعلق میں لے جاتے تھے، آپ کو وہاں پر پاکستان کے وقار کا خیال کرنا چاہیے۔  کیا یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب یا محمد بن سلمان نے امریکہ سے واپسی کے وقت عمران خان سے جہاز واپس منگوالیا تھا؟ اس کا جواب یہ ملا کہ کسی ناراضی کی وجہ سے نہیں بلکہ جہاز واقعی خراب ہوا تھا، جس کی وجہ سےاسے  واپس جانا پڑا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ناراض نہیں تھے، محمد بن سلمان تک عمران خان کی کئی ایسی باتیں پہنچیں جن سے وہ ناراض تھے۔ مزید : Breaking News -اہم خبریں -قومی -دفاع وطن –
Source : https://dailypakistan.com.pk/06-Dec-2022/1516863

اپنا تبصرہ بھیجیں