خواتین کے کینسرز کے علاج کیلئے روش اور گرین اسٹار کااشتراک 

خواتین کے کینسرز کے علاج کیلئے روش اور گرین اسٹار کااشتراک  لاہور(پ ر)پاکستان میں خواتین کی اموات کی بڑی وجوہات میں سرویکل، اوورین اور بریسٹ کینسرز شامل ہیں۔ اس حوالے سے سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے روش اور گرین اسٹار کے ابتدائی منصوبے کے افتتاح کے موقع پر خواتین میں کینسرز کے بڑھتے ہوئے واقعات کو سامنے لانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے سروس ڈیلیوری ماڈلز تیار کئے جائیں جنہیں آگے بڑھایا جاسکے اور جو اسکریننگ، قبل از وقت تشخیص اور خواتین کے کینسرز کے علاج کے لئے بہتر رسائی فراہم کریں۔ یہ آزمائشی منصوبہ کراچی اور لاہور سے شروع ہورہا ہے جس میں کینسر کے مختلف مراحل اور عمروں کی خواتین مریضوں کو علاج کی سہولت پہنچانے سے متعلق گرین اسٹار کلینکس میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی جانب سے بروقت رہنمائی کیلئے بلامعاوضہ اسکریننگ اور گھر گھر آگہی فراہم کی جائے گی۔ سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے اس منصوبہ کے باضابطہ افتتاح پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، ”سندھ حکومت خواتین میں کینسرز کے معیاری علاج کی فراہمی کو اہم ترجیح سمجھتی ہے۔ ہمیں روش اور گرین اسٹار کے اشتراک پر فخر ہے جو صفورا گوٹھ کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لئے سرویکل، اوورین اور بریسٹ کینسرز کے بروقت علاج اور قبل از وقت تشخیص کی سہولیات اور آگہی بڑھانے کے لئے کام کررہے ہیں۔”تقریب میں روش فارما کی منیجنگ ڈائریکٹر حفصہ شمسی نے کہا، “کینسر میں خواتین کو ہر مرحلے پر رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے اور یہ اقدام ‘خواتین کی صحت’ کو ترجیح دیتا ہے جو روش کی سوچ کا مظہر ہے جس میں ان رکاوٹوں کو حل کیا جائے گا جو خواتین کے مناسب علاج میں حائل ہوتی ہیں۔ ”حفصہ شمسی نے مزید کہا، ”ہم کینسر کی مریضاؤں کی بروقت اسکریننگ سے لیکر علاج میں معاونت تک تمام مراحل میں بڑی بہتری لانے اور صحت عامہ کی جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں،جس کی بدولت کینسر سے متاثرہ خواتین کے بہتر علاج کی راہ ہموار ہوگی۔” اس موقع پر گرین اسٹار سوشل مارکیٹنگ کے سی ای او، سید عزیز الرب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، “روش کے ساتھ اشتراک پر ہمیں نہایت خوشی ہے جس کے تحت پسماندہ علاقوں میں خواتین کی صحت سے متعلق رسائی کے اپنی نوعیت کے اس پہلے پروگرام پر عمل درآمد کیا جائے گا جہاں انہیں مفت اسکریننگ کی خدمات فراہم کی جائیں گی اور بقدر ضرورت انکے مزید جائزے کیلئے آگے ریفر کیا جائے گا۔”پاکستان میں خواتین کے اندر سرویکل، اوورین اور بریسٹ کینسرز عام ہیں اور قبل از وقت تشخیص سے ان کینسرز کا علاج ممکن ہے۔ ایشیاء میں سب سے زیادہ چھاتی کے سرطان کی شرح پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ سال 2020 میں چھاتی کے سرطان کے 25 ہزار کیسز سامنے آئے جس کی شرح اموات 50 فیصد رہی۔ سرویکل کینسر خواتین میں دوسرا سب سے عام کینسر ہے۔ ہر سال،تقریباََ5 ہزار خواتین میں سرویکل کینسر کی تشخیص سامنے آتی ہے اور ان میں 63فیصد خواتین جانبر نہیں ہوپاتیں۔ اسی طرح، اوورین کینسر سے سالانہ تقریباََ 4500پاکستانی خواتین متاثر ہوتی ہیں، جن کی شرح اموات 70 فیصد ہے۔ یہ امراض محدود آگہی، معاشرتی جھجھک، مہنگے، ناکافی انفراسٹرکچر اور اسکریننگ کی سہولیات دور دراز ہونے کی وجہ سے بڑھتے جارہے ہیں۔ کینسر کے علاج و معالجہ سے مریضوں پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے جبکہ وہ جذباتی اور نفسیاتی دونوں طرح متاثر بھی ہوتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ خواتین میں کینسرز سے متعلق آگہی بڑھانے، قبل از وقت تشخص اور کم لاگت میں علاج کی دستیابی کیلئے اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا جائے۔ اس حوالے سے سندھ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تکنیکی مشیر، ڈاکٹر طالب لاشاری نے کراچی میں گرین اسٹار کے صفورا گوٹھ کلینک میں بلامعاوضہ اسکریننگ کے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا۔  مزید : کامرس –
Source : https://dailypakistan.com.pk/30-Nov-2022/1514610

اپنا تبصرہ بھیجیں