سفیدے کے لئے شہتوت کو ختم کرنا درست اقدام نہیں فاروق بھٹی

 سفیدے کے لئے شہتوت کو ختم کرنا درست اقدام نہیں، فاروق بھٹی لاہور(اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر سیری کلچر (ریشم سازی)محمد فارو ق بھٹی نے کہا ہے کہ سفیدے کیلئے شہتوت کو ختم کرنے سے سپورٹس انڈسٹری کو بھاری نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ سیری کلچر(ریشم سازی) کی انڈسٹری بھی شدید متاثر ہوئی ہے،شہتوت کے خاتمے کے بعد ٹوکری سازی اور سیری کلچر انڈسٹریز سے منسلک خاندانوں کو شہروں کی طرف نقل مکانی کرناپڑی، پلاسٹک اور لوہے سے بنی ٹوکریاں ناقص اور جلد ٹوٹ جاتی ہیں اس لئے آج بھی باغوں سے فروٹ منڈیوں تک پھلوں اور سبزیوں کی ترسیل کیلئے لکڑی سے بنی ٹوکریوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اتوار کو ” اے پی پی ”سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر فاروق بھٹی نے کہا کہ شہتوت سے بنی ٹوکریاں لوہے اور پلاسٹک سے زیادہ مضبوط، دیرپا اور پائیدار ہوتی ہیں اور مختلف صنعتوں کے استعمال میں کلیدی کردار کی حامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جنگلات سے شہتوت کے درختوں کی جگہ زیادہ منافع کے لئے سفیدے کے درخت کی کاشت کو ترجیح دی جاتی ہے جو ماچس سازی میں استعمال ہوتا ہے،جب تک مصنوعی ٹوکریاں متعارف نہیں ہوئی تھیں تب تک لکڑی سے بنی ٹوکریوں کو روڈبنانے،اینٹوں کے بھٹوں اور گھروں کی تعمیرکیلئے بطور تگاری استعمال کیا جاتاتھا۔ ۔ انہوں نے بتایا کہ شہتوت پر بہت سے شعبوں کا انحصار تھا جن میں سیالکوٹ میں سپورٹس سیکٹر،ریشم سازی کی صنعت،ٹوکری سازی،کلہاڑیوں کے دستے وغیرہ شامل ہیں کیونکہ شہتوت کی لکڑی مضبوط ہونے کی وجہ سے مکانوں کی چھتیں، بالے اور شہتیر بنانے کیلئے بھی استعمال ہوتی تھی۔انہوں نے کہا کہ جنگلات سے شہتوت کے درخت کی چوری روک کر شیشم جیسی بہترین لکڑی بچائی جا سکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ دو دہائیاں قبل سفیدے کے درخت کی کاشت شروع کر دی گئی جس کا مقصد سیم اور تھور ختم کرنے کیلئے بنجر زمین پر سفیدے کے فاسٹ گروئنگ مگر منافع بخش پودے لگانے شروع کر دیئے گئے اور شہتوت کی کاشت پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ پہلے سے موجود درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا اور کاشتکاروں نے بھی شہتوت کی کاشت سے توجہ ہٹا لی۔ان کا کہنا تھا کہ دو دہائیاں قبل شہتوت کے درخت کو غیر اہم سمجھتے ہوئے سینکڑوں خاندانوں کوان کی دہلیز پر دستیاب روزگار سے محروم کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ خوش قسمتی سے اب دوبارہ صوبہ بھر کے شہروں چیچہ وطنی،چھانگا مانگا،فیصل آباد،ننکانہ،شیخوپورہ اور پیروال،خانیوال میں شہتوت کے درخت لگائے گئے ہیں اور اس کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹوکری سازی دوبارہ انڈسٹری کا درجہ اختیارکرتی جارہی ہے اور اب شہتوت کی ٹہنیوں کی سالانہ باقاعدہ سرکاری سطح پر ہزاروں روپے کی نیلامی ہوتی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ایکڑ شہتوت کی ٹہنیوں کے میٹریل سے ایک مزدور 300دن تک مسلسل مزدوری کرسکتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی باغوں سے فروٹ منڈیوں تک پھلوں اور سبزیوں کی ترسیل کیلئے لکڑی سے بنی ٹوکریوں کا استعمال اس کی اہمیت کو اجاگرکرتاہے اور ان ٹوکریوں سے آج بھی منڈیوں میں مزدور سامان منڈی سے باہر لانے کاکام لیتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹوکری سازی کی صنعت کو دوبارہ فعال بنانے کیلئے شہتوت کی پیداوار کو بڑھانے پر توجہ دی جائے تا کہ لوگوں کے روز گا کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت و افادیت سے بھی استفادہ کیا جا سکے۔\395 مزید : کامرس –
Source : https://dailypakistan.com.pk/28-Nov-2022/1513877

اپنا تبصرہ بھیجیں