انڈین باسکٹ بال کھلاڑی لیتھارا کی مبینہ خودکشی لیکن انہیں کونسا عہدیدار ہراساں کر رہاتھا؟ ہنگامہ برپا ہوگیا

 

انڈین باسکٹ بال کھلاڑی 23 سالہ لیتھارا کےسی نے 26 اپریل کو انڈیا کے شہر پٹنہ میں واقع اپنے کرائے کے کمرے میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی،وہ کیرالہ کی اس ٹیم کی رکن تھیں جس نے  2018 میں قومی سطح پر باسکٹ بال فیڈریشن کپ جیتا تھا، ان کے پڑوسی  نشانتھ کا کہنا ہے کہ لیتھارا نے کئی بار اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ کوچ روی سنگھ ان کو مسلسل ہراساں کر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں ’ہم نے ان کھلاڑیوں سے بھی بات کی جنھوں نے ان کے ساتھ وی ایس کھیلا تو انھوں نے بتایا کہ لیتھارا کوچ کی وجہ سے پریشان تھیں۔‘اس کے بعد کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجیین نے 28 اپریل کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو خط لکھ کر اس کیس کی منصفانہ تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔

انھیں سپورٹس کے کوٹہ پر انڈین ریلوے میں  جونیئر کلرک کے طور پر کام کر رہی تھیں۔26 اپریل کو لیتھارا شام چھ بجے کے قریب اپنے گھر واپس آئیں اور خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا۔ کیرالہ میں رہنے والے ان کے والدین نے رات کو ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ لیتھارا نے اپنے کسی جاننے والے کا فون تک نہیں اٹھایا جس  کے بعد معلوم ہوا کہ لیتھارا نے خودکشی کر لی ہے۔

لیتھارا کے گھر والوں کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی جس کے بعد لیتھارا کے ماموں راجیون اور ان کے ایک پڑوسی نشانت پٹنہ آئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لیتھارا کی میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔   لیتھارا کی دو بہنیں شادی شدہ ہیں۔ لیتھارا سب سے چھوٹی تھیں اور اپنے والدین کی اکلوتی مالی معاونت کرنے والی بھی تھیں، لاکھوں کا قرض بھی لیا تھا۔

لیتھارا کے ماموں راجیون نے پٹنہ کے راجیو نگر پولیس سٹیشن میں 27 اپریل کو درج کرائی گئی نامزد ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ’لیتھارا نے مجھے پہلے فون پر بتایا تھا کہ میرا باسکٹ بال کوچ جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کر رہا ہے، وہ مجھ پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے۔ وہ اثر و رسوخ والا شخص ہے، میں اس کے خلاف شکایت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ مجھے (راجیون) کو پورا یقین ہے کہ لیتھارا نے اپنے کوچ روی سنگھ کے ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کی وجہ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق بی بی سی ہندی نے اس سلسلے میں کوچ روی سنگھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ان کے اہلخانہ نے بتایا کہ ’وہ ابھی شادی میں گئے ہیں تاہم بعدا زاں   انھوں نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ ’کچھ لڑکے، لڑکیاں کھیلنے کے لیے میدان میں آتی ہی نہیں تھیں۔ اس بابت میں نے 19 اپریل کو ہی اپنے سینیئر حکام سے تحریری طور پر شکایت کی تھی، اگر انھیں کسی قسم کی شکایت تھی تو خاتون کھلاڑی کو چاہیے تھا کہ وہ سینیئر حکام سے اس کی شکایت کرتیں، لیکن میرے خلاف ایسی کوئی شکایت نہیں کی گئی۔‘


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے