حوثی باغیوں کے حملے میں زخمی پاکستانی نے ایسا اعلان کردیا کہ اماراتی حکومت بھی ہمت کو داد دے

17جنوری کے روز حوثی باغیوں کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے علاقے مصفاح میں کیے گئے میزائل حملوں میں زخمی ہونے والے پاکستانی شہری نے امارات میں ہی رہنے اور کام کرنے کے عزم کا اظہار کر دیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق 33سالہ سید نور خان نامی اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کے حملے میں زخمی ہونے کی وجہ سے ڈر کر امارات ابوظہبی میں اپنی ملازمت ترک نہیں کرے گا بلکہ اسی جگہ پر کام کرتا رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق سید نور خان ان 6لوگوں میں سے ایک ہے جو یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے پٹرولیم ٹینکرز پر کیے گئے حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔ سید نور خان ٹینکر ڈرائیور کی ملازمت کرتا ہے۔ حوثی باغیوں کے اس حملے میں 3لوگ جاں بحق بھی ہو گئے تھے۔سید نور خان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر ہم بہت دل گرفتہ ہیں۔ اس بدقسمت دن کو ہم کبھی نہیں بھلا پائیں گے، جب ہمارے تین ساتھی ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔

سید نور نے واقعے کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”حوثی باغیوں کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں سے ہمارے ٹینکر دھماکوں سے پھٹ گئے، جس کے بعد ہر طرف آگ اور دھواں تھا۔ ہم سب فوری طور پر اپنی حفاظت کے لیے دوڑے اور محفوظ جگہ پر پہنچ کر مجھے احساس ہوا کہ میں زخمی ہو چکا ہوں۔یہ سب کچھ ایسا اچانک ہوا کہ ہم ایک دوسرے کی بھی کوئی مدد نہ کر سکے۔“سید نور کا کہنا تھا کہ ”میں 2010ءسے ابو ظہبی میں ڈرائیور کی ملازمت کر رہا ہوں اور اب بھی ملازمت جاری رکھوں گا۔“

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے